سعودی نائب وزیردفاع کا کہنا ہے کہ سعودی فوجوں نے پانچ روز کی بمباری کے بعد یمنی شیعہ مجاہدین کو سعودی عرب سے نکال باہر کیا ہے مگر۔۔۔
مگر حوثی مجاہدین کے ترجمان "محمد عبدالسلام"، سعودی حملے کو "ناجائز جارحیت" قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے یمن کی سرزمین پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔
تا ہم سعودی وزارت دفاع کا دعوی ہے کہ: "ہم نے اپنی سرزمین کا دفاع کیا اور ہم یمنی سرزمین میں داخل نہیں ہوئے بلکہ صرف اسی صورت میں یمن کی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں جب اس ملک کے صدر علی عبداللہ صالح ہم سے ایسا کرنے کی درخواست کریں"۔
انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس بار علی عبداللہ صالح نے ایسا کرنے کی درخواست کی تھی یا نہیں!!!
دی وولٹ نے لکھا کہ علی عبداللہ صالح نے 11 اگست سے "جلی ہوئی زمین" کے نام سے شیعہ آبادی کے خلاف نئی جنگ کا آغاز کیا ہے اور اس کاروائی میں یمنی حکومت نے تھوڑی سے کامیابی حاصل کی ہے مگر دوسری طرف سے اس ملک کی معیشت اور سیاسی استحکام کو بھاری دھچکا لگا ہے۔
امریکی جاسوسی اداروں کے سربراہ نے بھی سعودی عرب اور یمن کے حکمرانوں کی تأئید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سعودی عرب یمن میں اقتدار کے خلاء کے حوالے سے فکرمند ہے کیونکہ القاعدہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
مگر دی وولٹ کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی فکرمندی کی وجہ یہ ہے کہ حوثی مجاہدین کی استقامت اس ملک میں اہل تشیع کے مقتدر اور طاقتور ہونے پر منتج ہوسکتی ہے۔
دی وولٹ نے لکھا ہے کہ اب تک یمن کے لاکھوں شیعہ باشندے اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں دشوار زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔